ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایس سی ایس ٹی ہراساں ایکٹ کے تحت اب فوری گرفتاری نہیں، ابتدائی تحقیقات کے بعد ہوگا معاملہ درج: سپریم کورٹ

ایس سی ایس ٹی ہراساں ایکٹ کے تحت اب فوری گرفتاری نہیں، ابتدائی تحقیقات کے بعد ہوگا معاملہ درج: سپریم کورٹ

Tue, 20 Mar 2018 23:55:46    S.O. News Service

نئی دہلی20 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ایس سی ایس ٹی ہراساں ایکٹ کے تحت اب فوری طور پر گرفتاری نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا ہے، ساتھ ہی کورٹ نے اس ایکٹ کے تحت آنے والی شکایات پر ابتدائی جانچ کے بعد ہی معاملہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔اگر کسی کے خلاف ایس سی / ایس ٹی تشدد کا مقدمہ درج ہوتا ہے، تو وہ پیشگی ضمانت کے لئے درخواست دے سکتا ہے ۔ اگر کورٹ کو پہلی نظر میں لگتا ہے کہ معاملہ بے بنیاد یا غلط نیت سے درج کرایا گیا ہے، تو وہ پیشگی ضمانت دے سکتا ہے۔سرکاری ملازمین کے خلاف ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کے غلط استعمال کے خدشہ کے پیش نظر ان کی گرفتاری سے پہلے ان کے محکمہ کے قابل افسر کی منظوری ضروری ہوگی۔ باقی لوگوں کو گرفتار کرنے کے لئے ضلع کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (SSP) کی اجازت ضروری ہوگی۔اس ایکٹ کے تحت شکایت ملنے پر ڈی ایس پی سطح کے افسر ابتدائی تفتیش کریں گے۔ وہ یہ دیکھیں گے کہ معاملہ واقعی بنتا ہے یا صرف پھنسانے کی نیت سے شکایت کی گئی ہے۔ اس کے بعد ہی مقدمہ درج ہوسکے گا ۔ واضح ہو کہ یہ معاملہ مہاراشٹر کا تھا۔ ایک کالج کے ہیڈ ماسٹر اور محکمہ صدر نے ایک ملازم کے کام کاج کو لے کر سروس ریکارڈ کے تحت منفی تبصرہ کیا۔ ملازم پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتا تھا، اس نے دونوں کے خلاف دلت ہراساں ایکٹ کے تحت معاملہ درج کروا دیا۔چونکہ، محکمہ جاتی کام کی وجہ سے مقدمہ درج ہوا تھا، لہٰذا پولیس نے کارروائی کے لئے مہاراشٹر کے ڈائرکٹر آف ٹیکنیکل ایجوکیشن سے منظوری مانگی۔ انہوں نے منظوری سے انکار کر دیا، اس سے ناراض ملازم نے ڈائریکٹر آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے خلاف دلت ہراساں کا معاملہ درج کروا دیا۔ڈائریکٹر نے ہائی کورٹ سے مقدمہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہائی کورٹ نے مانا کہ انہوں نے صرف اپنا سرکاری کام کیا تھا، لیکن مقدمہ منسوخ کرنے سے یہ کہہ کے انکار کر دیا کہ اس سے معاشرے کے محروم طبقوں کو غلط پیغام جائے گا۔ آج سپریم کورٹ کے جسٹس اے گوئل اوریویوللت نے نہ صرف مقدمہ منسوخ کیا بلکہ ایک تاریخی فیصلہ بھی دے دیا۔


Share: